کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: نیکوں اور بدوں کے مناہج اور منازل جدا جدا ہیں
حدیث نمبر: 248
- " كما لا يجتنى من الشوك العنب، كذلك لا ينزل الأبرار منازل الفجار، فاسلكوا أي طريق شئتم، فأي طريق سلكتم وردتم على أهله ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا یزید بن مرثد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جیسے کانٹوں سے انگور نہیں چنے جاتے ، اس طرح بدکاروں کی منازل پر نیکوروں کو نہیں اتارا جاتا ۔ جس راستہ پر چلنا چاہتے ہو چلو ( لیکن اتنا یاد رکھو کہ ) جون سا راستہ اختیار کرو گے اسی پر چلنے والوں کے پاس پہنچ جاؤ گے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 248
حدیث نمبر: 249
- " لقلب ابن آدم أشد انقلابا من القدر إذا اجتمعت غليانا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس وقت تک کسی آدمی کو صاحب خیر یا شر نہیں کہتا ، جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ کس عمل پر اس کا خاتمہ ہو رہا ہے ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے ۔ کہا گیا : تم نے کون سی حدیث سنی ہے ؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”ابن آدم کا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہونے والا ہے جو ابل رہی ہو ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 249
حدیث نمبر: 250
- " لا تعجبوا بعمل أحد حتى تنظروا بما يختم له، فإن العامل يعمل زمانا من دهره ، أو برهة من دهره بعمل صالح لو مات (عليه) دخل الجنة، ثم يتحول فيعمل عملا سيئا، وإن العبد ليعمل زمانا من دهره بعمل سيىء لو مات (عليه) دخل النار، ثم يتحول فيعمل عملا صالحا، وإذا أراد الله بعبد خير استعمله قبل موته فوفقه لعمل صالح، (ثم يقبضه عليه) ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہین کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کسی کے عمل کو دیکھ کر اس کے ( نیک و بد ) ہونے کا فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرو ، دیکھو کہ کس عمل پر اس کی زندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے ، کیونکہ ( یہ حقیقت ہے کہ ) عامل کچھ زمانہ نیک اعمال کرتا رہتا ہے ، اگر انہی اعمال پر اس کو موت آ جائے تو وہ جنتی ہو گا ، لیکن اس کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ برے عمل کرنا شروع کر دیتا ہے ( اور ان پر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے ) ۔ اسی طرح ایک انسان کچھ عرصہ تک برے عمل کرتا رہتا ہے ، اگر انہی پر اس کو موت آجائے تو وہ آگ میں داخل ہو گا ، لیکن ہوتا یوں ہے کہ اس کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ نیک عمل شروع کر دیتا ہے ( اور ان پر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے ) ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے خیر و بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے موت سے قبل نیک اعمال کی توفیق دے دیتے ہیں ، پھر اس کی روح قبض کر لیتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 250