کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: کیا کسی چیز میں نحوست پائی جاتی ہے؟
حدیث نمبر: 240
- " الطيرة من الدار والمرأة والفرس ".
حافظ محفوظ احمد
ابوحسان کہتے ہیں : بنو عامر قبیلے کے دو آدمی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں : ” اہل جاہلیت کہتے تھے : گھر میں ، عورت میں اور گھوڑے میں نحوست ہوتی ہے ۔ “ سیدہ عائشہ غصے میں آ گئیں اور فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فرقان ( قران ) نازل کیا ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بات ارشاد نہیں فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ” جاہلیت والے ان چیزوں سے برا شگون لیتے ہیں۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 240
حدیث نمبر: 241
- " ان كان الشؤم في شيء ففي الدار والمرأة والفرس ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نحوست کا ذکر کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھر ، بیوی اور گھوڑے (یعنی) سواری میں ہوتی ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 241
حدیث نمبر: 242
- " إن يك من الشؤم شيء حق ففي المرأة والفرس والدار ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر کسی چیز میں نحوست کا ہونا درست ہوتا تو وہ بیوی ، گھوڑے اور گھر میں ہوتی ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 242
حدیث نمبر: 243
- " لا شؤم، وقد يكون اليمن في ثلاثة: في المرأة والفرس والدار ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا مخمر بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”کوئی نحوست نہیں ، البتہ تین چیزوں میں خیر و برکت ہوتی ہے ، یعنی بیوی ، گھوڑے اور گھر میں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 243