حدیث نمبر: 215
- " الطيرة شرك، وما منا إلا، ولكن الله يذهبه بالتوكل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” برا شگون شرک ہے اور ہم میں سے جو بھی ہے اللہ تعالیٰ توکل کے ذریعے اس چیز کو ختم کر دیتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 216
- " لا عدوى ولا طيرة ولا هام إن تكن الطيرة في شيء ففي الفرس والمرأة والدار ، وإذا سمعتم بالطاعون بأرض فلا تهبطوا، وإذا كان بأرض وأنتم بها فلا تفروا منه ".
حافظ محفوظ احمد
سعید بن مسیب کہتے ہیں : میں نے سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے بدشگونی کے بارے میں پوچھا : انہوں نے مجھے جھڑک دیا اور کہا : تجھے یہ کس نے بیان کیا ؟ میں نے ناپسند کیا کہ بیان کرنے والے کا نام بتاؤں ۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ کوئی بیماری متعدی ہے ، نہ کوئی بدفال ہے اور نہ الو کا بولنا کوئی اثر رکھتا ہے ، اگر بدشگونی ہوتی تو گھوڑے ، بیوی اور گھر میں ہوتی ۔ جب تم سنو کہ فلاں علاقے میں طاعون کی بیماری پھیل گئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تم اسی علاقہ میں ہو تو وہاں سے مت نکلو ۔ “
حدیث نمبر: 217
- " لا عدوى ولا طيرة وإنما الشؤم في ثلاثة: المرأة والفرس والدار ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی بیماری متعدی نہیں ہے ، نہ فال بد کوئی چیز ہے اور تین چیزوں میں بدشگونی ( یا نحوست ) ہوتی ہے : بیوی ، گھوڑا اور گھر ۔ “
حدیث نمبر: 218
- " لن يلج الدرجات العلى من تكهن أو تكهن له، أو رجع من سفر تطيرا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کہانت کی ، یا جس کے لیے کی گئی یا جو بدشگونی لیتے ہوئے سفر سے واپس آ گیا وہ اعلی درجات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ۔ “
حدیث نمبر: 219
- " لا عدوى ولا طيرة وأحب الفأل الصالح ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی بیماری متعدی نہیں ، نہ فال بد کوئی چیز ہے البتہ مجھے نیک فال پسند ہے ۔ “
حدیث نمبر: 220
- " ليس منا من تطير أو تطير له، أو تكهن أو تكهن له، أو سحر أو سحر له ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کے بازو میں پیتل کا چھلہ دیکھا اور پوچھا : یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : یہ کمزوری کی وجہ سے ہے ۔ انہوں نے کہا : اگر اس چھلے کو پہنے ہوئے تجھے موت آ گئی تو تجھے اسی کے سپرد کر دیا جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے برا شگون لیا یا اس کے لیے برا شگون لیا گیا یا جس نے کہانت کی یا اس کے لیے کہانت کی گئی یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گیا ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ “
حدیث نمبر: 221
- " ليس منا من سحر (أو سحر له) أو تكهن أو تكهن له أو تطير أو تطير له ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے خود جادو کیا یا اس کے لیے جادو کیا گیا ، یا جس نے کہانت کی یا اس کے لیے کہانت کی گئی یا جس نے بدفال لی یا جس کے لیے بدفال لی گئی وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ “