کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 210
- (طوبَى له، ثم طوبَى له، ثم طوبى له. يعنِي: من آمنَ به - صلى الله عليه وسلم - ولم يَره) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوعبد الرحمٰن جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ہمیں دو سوار دکھائی دئیے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا : ”یہ دو کندی باشندے ہیں اور مذحجی قبیلے سے ان کا تعلق ہے ۔“ وہ دونوں آپ کے پاس پہنچ گئے ، واقعی وہ مذحج قبیلے کے آدمی تھے ۔ ان میں سے ایک بیعت کرنے کے لیے آپ کے قریب ہوا ۔ جب آپ نے اس کا ہاتھ پکڑا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جو آدمی آپ کا دیدار کرے ، آپ پر ایمان لائے ، آپ کی تصدیق کرے اور آپ کی پیروی کرے ، اسے کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس کے لیے خوشخبری ہے ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا اور وہ پیچھے ہٹ گیا ۔ پھر دوسرا آگے بڑھا ، جب آپ نے بیعت لینے کے لیے اس کا ہاتھ پکڑا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جو آدمی آپ پر ایمان لائے ، آپ کی تصدیق کرے ، آپ کی اطاعت کرے لیکن دیدار نہ کر سکے تو اسے کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس کے لیے خوشخبری ہے ، پھر خوشخبری ہے ، پھر خوشخبری ہے ۔“ پھر آپ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور وہ پیچھے ہٹ گیا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 210