حدیث نمبر: 202
- " لا يزال أمر هذه الأمة مواتيا أو مقاربا ما لم يتكلموا في الولدان والقدر ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس امت کا معاملہ اس وقت تک ہم نوائی ، ہم خیالی ، ( اتحاد اور موافقت ) والا رہے گا ، جب تک بچوں اور تقدیر ( کے مسائل ) میں گفتگو نہیں کریں گے ۔“
حدیث نمبر: 203
- " سألت ربي اللاهين، فأعطانيهم. قلت: وما اللاهون؟ قال: ذراري البشر ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے اپنے رب سے «لاهين» کا سوال کیا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ عطا کر دئیے ۔“ میں نے کہا : کہ «لاهين» سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”انسانی بچے۔“
حدیث نمبر: 204
- " ما بال قوم جاوزهم القتل اليوم حتى قتلوا الذرية! فقال رجل: يا رسول الله: إنما هم أولاد المشركين! فقال: ألا إن خياركم أبناء المشركين، ثم قال: ألا لا تقتلوا ذرية، ألا لا تقتلوا ذرية، قال: كل نسمة تولد على الفطرة حتى يهب عنها لسانها فأبواها يهودانها وينصرانها ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ جہاد کیا ، ایک دن میں نے ( مخالف لشکر کے ) بڑے بڑے لوگوں کو اچانک قتل کیا اور مجاہدین نے ان کے بچوں کو بھی قتل کر دیا ۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ قتل اپنی حد سے تجاوز کر گیا ہے اور بچوں کو بھی تہ تیغ کر دیا گیا ہے ؟“ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ تو مشرکوں کے بچے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم میں مختار و منتخب لوگ بھی مشرکوں کے بچے ہیں ۔“ پھر فرمایا : ”خبردار ! بچوں کو قتل نہیں کرنا ۔ خبردار ! بچوں کو قتل نہیں کرنا ، ہر انسان ( اسلام کی ) فطرت پر پیدا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ اس کی زبان وضاحت کر دے ، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں ۔“