حدیث نمبر: 127
- " أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله، ويؤمنوا بي، وبما جئت به، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں گا جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور مجھ پر اور میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اپنے خونوں اور مالوں کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، ماسوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ تعالی پر ہو گا۔“
حدیث نمبر: 128
- " أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وأن يستقبلوا قبلتنا ويأكلوا ذبيحتنا وأن يصلوا صلاتنا، فإذا فعلوا ذلك " فقد " حرمت علينا دماؤهم وأموالهم إلا بحقها لهم ما للمسلمين وعليهم ما على المسلمين ".
حافظ محفوظ احمد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالی ہی معبود برحق ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، (نیز) وہ ہمارے قبلہ کی طرف متوجہ ہوں، ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری نماز پڑھیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ہم پر ان کے خون اور مال حرام ہو جائیں گے، ماسوائے اسلام کے حق کے، انہیں وہی حقوق ملیں گے جو مسلمانوں کے ہوتے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو عام مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں۔“
حدیث نمبر: 129
- " أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فمن قال لا إله إلا الله فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه، وحسابه على الله ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ «عربی» نہیں کہہ دیتے۔ جب وہ «عربی» کہہ دیں گے تو مجھ سے اپنے مال و جان کو محفوظ کر لیں گے، ماسوائے اسلام کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ تعالی پر ہو گا۔“
حدیث نمبر: 130
- " أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام وحسابهم على الله ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ (اس توحید اور رسالت کے اقرار کے بعد) وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جب وہ ایسا کر لیں گے تو مجھ سے وہ اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے، سوائے حق اسلام کے۔ اور ان (کے باطن) کا حساب اللہ کے سپرد ہو گا۔“
حدیث نمبر: 131
- " أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله، فإذا قالوا: لا إله إلا الله عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله، ثم قرأ * (إنما أنت مذكر لست عليهم بمسيطر) * ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں، جب تک وہ «عربی» نہیں کہہ دیتے۔ جب وہ «عربی» کہیں گے، تو وہ اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، سوائے حق اسلام کے اور ان (کے باطن) کا حساب اللہ تعالی کے سپرد ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: (آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ ان پر دروغہ نہیں ہیں)۔