حدیث نمبر: 100
- (ما أَنعَمَ اللهُ على قومٍ نِعْمَةُ إلا أصبحُوا بها كافرِينَ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے قحط پڑ گیا ۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ بارش کے لیے دعا کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے نزول کی دعا کی ( اور بارش نازل بھی ہوئی ) ۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا : فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بھی اللہ تعالیٰ بندوں پر کوئی انعام کرتے ہیں تو وہ اس کی وجہ سے کافر بنے ہوتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 100
حدیث نمبر: 101
- " من اقتبس علما من النجوم اقتبس شعبة من السحر ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے علم نجوم حاصل کیا، اس نے جادو کے ایک جز کی تعلیم حاصل کر لی۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 101
حدیث نمبر: 102
- " أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركونهن: الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں جاہلیت کے چار اوصاف پائے جائیں گے، وہ ان کو نہیں چھوڑیں گے: (۱) حسب (خاندانی عظمت) پر فخر کرنا، (۲) نسب پر طعن کرنا، (۳) ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور، (۴) نوحہ کرنا۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 102