کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: امت مسلمہ میں باقی رہنے والے امورِ جاہلیت
حدیث نمبر: 95
- " أربع في أمتي من أمر الجاهلية لن يدعهن الناس: النياحة والطعن في الأحساب والعدوى: أجرب بعير فأجرب مائة بعير، من أجرب البعير الأول؟! والأنواء: مطرنا بنوء كذا وكذا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاہلیت کے چار اوصاف میری امت میں موجود رہیں گے ، یہ ان کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے : (۱) نوحہ کرنا ، (۲) حسب و نسب میں طعن کرنا ، (۳) بیماری کو متعدی قرار دیتے ہوئے کہنا کہ ایک خارشی اونٹ کی وجہ سے سو اونٹوں کو خارش لگ گئی ۔ بھلا سوال یہ ہے کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی اور (۴) ستارے ، یعنی یہ کہنا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 95
حدیث نمبر: 96
- " أربع في أمتي من أمر الجاهلية لا يتركونهن: الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والاستسقاء بالنجوم والنياحة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں جاہلیت کے چار اوصاف پائے جائیں گے ، وہ ان کو نہیں چھوڑیں گے : (۱) حسب ( خاندانی عظمت ) پر فخر کرنا ، (۲) نسب پر طعن کرنا ، (۳) ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور (۴) نوحہ کرنا ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 96
حدیث نمبر: 97
- " ثلاث من عمل أهل الجاهلية لا يتركهن أهل الإسلام: النياحة والاستسقاء بالأنواء وكذا. قلت لسعيد (يعني المقبري) : وما هو؟ قال: دعوى الجاهلية : يا آل فلان، يا آل فلان، يا آل فلان ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین امور کا تعلق جاہلیت سے ہے ، لیکن اہل اسلام بھی ان کو ترک نہیں کریں گے نوحہ کرنا ، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور اس طرح کرنا ۔ “ میں نے سعید مقبری سے پوچھا کہ ” اس طرح کرنے “ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : جاہلیت کی پکار پکارنا ، ( یعنی یون کہنا ) : او ال فلان ! او ال فلان ! او ال فلان !
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 97
حدیث نمبر: 98
- " شعبتان من أمر الجاهلية لا يتركهما الناس أبدا: النياحة والطعن في النسب ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ جاہلیت کے دو امور کو ترک نہیں کریں گے : نوحہ کرنا اور نسب میں طعن کرنا ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 98
حدیث نمبر: 99
- " ثلاث لن تزال في أمتي: التفاخر في الأحساب والنياحة والأنواء ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین امور میری امت میں برقرار رہیں گے : خاندانی عظمت پر فخر کرنا ، نوحہ کرنا اور ستاروں ( کے زریعے بارش طلب کرنا ) ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 99