حدیث نمبر: 79
- " ادعوا الناس، وبشرا ولا تنفرا، ويسرا ولا تعسرا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”لوگوں کو ( اسلام کی ) دعوت دینا ، خوشخبریاں سنانا ، متنفر نہ کرنا اور آسانیاں پیدا کرنا ( دین کو ) دشوار نہ بنا دینا ۔“ میں نے کہا: دو قسم کی شراب ، جو ہم یمن میں تیار کرتے تھے ، کے بارے میں شرعی حکم کی وضاحت کریں : «بتع» یعنی شہد کی نبیذ جو سخت ہو کر ( شراب کی صورت اختیار کر لے ) ۔ اور «مزر» یعنی مکئی کی نبیذ ، وہ بھی سخت ہو کر (شراب کی صورت اختیار کر جائے ) ۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حد درجہ جامع و مانع کلمات عطا کئے گئے تھے ۔ آپ نے فرمایا: ”میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں جو نماز سے بے ہوش کر دے ( وہ جس چیز كي بھی بنی ہوئی ہو ) ۔“ صحیح مسلم کی روایت میں «ولا تعسرا» کی بجائے «وعلما» ”اور لوگوں کو تعلیم دینا“ کے الفاظ ہیں ۔