کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: تقدیر برحق ہے، لیکن انسان کا اختیار
حدیث نمبر: 72M
- " هؤلاء لهذه وهؤلاء لهذه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مٹھیوں کے بارے میں فرمایا: ”اس مٹھی والے ( بندے ) اس ( جنت ) کے لیے اور اس مٹھی والے ( بندے ) اس ( جہنم ) کے لیے ہیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 72M
حدیث نمبر: 73
- " إن الله عز وجل خلق آدم، ثم أخذ الخلق من ظهره وقال: هؤلاء إلى الجنة ولا أبالي وهؤلاء إلى النار ولا أبالي، فقال قائل: يا رسول الله فعلى ماذا نعمل؟ قال: على مواقع القدر ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبدالرحمٰن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، پھر ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: یہ جنت کے لیے ہیں اور میں بےپروا ہوں اور یہ جہنم کے لیے ہیں اور میں کوئی پروا نہیں کرتا ۔“ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کس چیز کے مطابق عمل کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تقدیر کے مطابق۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 73
حدیث نمبر: 74
- " إن الله عز وجل قبض قبضة فقال: في الجنة برحمتي، وقبض قبضة فقال: في النار ولا أبالي ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک مٹھی بھری اور فرمایا: یہ میری رحمت سے جنت میں ہوں گے اور دوسری مٹھی بھری اور فرمایا: یہ جہنم میں ہوں گے اور میں کوئی پروا نہیں کرتا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 74
حدیث نمبر: 75
- " خلق الله آدم حين خلقه فضرب كتفه اليمنى، فأخرج ذرية بيضاء كأنهم الذر، وضرب كتفه اليسرى، فأخرج ذرية سوداء كأنهم الحمم، فقال للذي في يمينه: إلى الجنة ولا أبالي وقال للذي في كتفه اليسرى: إلى النار ولا أبالي ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اس کے دائیں کندھے پر ضرب لگائی اور وہاں سے سفید رنگ کی اولاد نکالی ، جو چھوٹی چیونٹیوں کی جسامت کی تھی ۔ پھر بائیں کندھے پر ضرب لگائی اور کوئیلوں کی طرح سیاہ اولاد نکالی ۔ پھر دائیں طرف والی اولاد کے بارے میں کہا : یہ جنت میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور بائیں کندھے سے نکلنے والی اولاد کے بارے میں کہا : یہ جہنم میں جائیں گے اور میں بےپرواہ ہوں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 75
حدیث نمبر: 76
- " إن الله تبارك وتعالى قبض قبضة بيمينه فقال: هذه لهذه ولا أبالي وقبض قبضة أخرى، يعني: بيده الأخرى، فقال: هذه لهذه ولا أبالي ".
حافظ محفوظ احمد
ابونضرہ کہتے ہیں ایک صحابی بیمار ہو گئے، اس کے ساتھی اس کی تیمارداری کرنے کے لیے اس کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئے۔ ان سے پوچھا گیا: اللہ کے بندے! کیوں رو رہے ہو ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو یہ نہیں فرمایا تھا کہ ”اپنی مونچھیں کاٹ دو اور پھر اسی چیز پر برقرار رہنا، یہاں تک کہ مجھے آ ملو۔“ ؟ اس نے کہا : کیوں نہیں، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی یہ بشارت مجھے دی تھی ) لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ ”بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے دائیں ہاتھ سے ( اپنے بندوں کی ) ایک مٹھی بھری اور فرمایا : اس مٹھی والے ( جنت ) کے لیے ہیں اور مجھے کسی کی پروا نہیں ہے پھر دوسرے ہاتھ سے دوسری مٹھی بھری اور فرمایا کہ اس مٹھی والے ( جہنم ) کے لیے ہیں اور میں کسی کی پروا نہیں کرتا ۔“ ( میرے رونے کی وجہ یہ فکر ہے کہ ) میں یہ نہیں جانتا کہ میں کس مٹھی میں ہوں گا۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 76