کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: قبولیت اسلام کے بعد پہلے والے جرائم کا مؤاخذہ کب کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 49
- (مَن أحسن فيما بقِيَ؛ غُفرَ له ما مضَى، ومن أَساءَ فيما بقيَ؛ أُخِذَ بما مضَى وما بقيَ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بقیہ زندگی میں ( اپنے اسلام میں ) حسن پیدا کیے رکھا، اس کے گزشتہ ( گناہ ) معاف کر دئیے جائیں گے اور جو بقیہ زندگی میں بھی برائیاں کرتا رہا ، اس سے گزشتہ اور آئندہ ( دونوں زندگیوں میں ہونے والے گناہوں کی ) باز پرس ہو گی ۔ “
حدیث نمبر: 50
- (مَن أحسنَ في الإِسلام، لم يُؤاخَذ بما عمِلَ في الجاهليّةِ، ومن أساءَ في الإِسلام؛ أُخِذَ بالأوّل والآخرِ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے دور جاہلیت میں جن برائیوں کا ارتکاب کیا، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو اپنے اسلام میں حسن پیدا کر لیتا ہے اس سے دور جاہلیت میں کی گئی برائیوں کی باز پرس نہیں ہو گی اور جو ( اسلام قبول کرنے کے بعد بھی برائیاں کرتا رہتا ہے، اس سے پہلے اور پچھلے ( سب ) گناہوں کی پوچھ کچھ ہو گی۔ “