حدیث نمبر: 2482
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ يُصَلِّي ، فَجَاءَتْهُ أُمُّهُ فَدَعَتْهُ ، فَأَبَى أَنْ يُجِيبَهَا ، فَقَالَ : أُجِيبُهَا أَوْ أُصَلِّي ، ثُمَّ أَتَتْهُ ، فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ وُجُوهَ الْمُومِسَاتِ ، وَكَانَ جُرَيْجٌ فِي صَوْمَعَتِهِ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ : لَأَفْتِنَنَّ جُرَيْجًا ، فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَكَلَّمَتْهُ ، فَأَبَى ، فَأَتَتْ رَاعِيًا ، فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا ، فَقَالَتْ : هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ ، فَأَتَوْهُ وَكَسَرُوا صَوْمَعَتَهُ فَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوهُ ، فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ، ثُمَّ أَتَى الْغُلَامَ ، فَقَالَ : مَنْ أَبُوكَ يَا غُلَامُ ؟ قَالَ : الرَّاعِي ، قَالُوا : نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ : لَا ، إِلَّا مِنْ طِينٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بنی اسرائیل میں ایک صاحب تھے ، جن کا نام جریج تھا ۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی والدہ آئیں اور انہیں پکارا ۔ انہوں نے جواب نہیں دیا ۔ سوچتے رہے کہ جواب دوں یا نماز پڑھوں ۔ پھر وہ دوبارہ آئیں اور ( غصے میں ) بددعا کر گئیں ، اے اللہ ! اسے موت نہ آئے جب تک کسی بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے ۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہتے تھے ۔ ایک عورت نے ( جو جریج کے عبادت خانے کے پاس اپنی مویشی چرایا کرتی تھی اور فاحشہ تھی ) کہا کہ جریج کو فتنہ میں ڈالے بغیر نہ رہوں گی ۔ چنانچہ وہ ان کے سامنے آئی اور گفتگو کرنی چاہی ، لیکن انہوں نے منہ پھیر لیا ۔ پھر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اپنے جسم کو اس کے قابو میں دے دیا ۔ آخر لڑکا پیدا ہوا ۔ اور اس عورت نے الزام لگایا کہ یہ جریج کا لڑکا ہے ۔ قوم کے لوگ جریج کے یہاں آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا ۔ انہیں باہر نکالا اور گالیاں دیں ۔ لیکن جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھ کر اس لڑکے کے پاس آئے ۔ انہوں نے اس سے پوچھا ۔ بچے ! تمہار باپ کون ہے ؟ بچہ ( اللہ کے حکم سے ) بول پڑا کہ چرواہا ! ( قوم خوش ہو گئی اور ) کہا کہ ہم آپ کے لیے سونے کا عبادت خانہ بنوا دیں ۔ جریج نے کہا کہ میرا گھر تو مٹی ہی سے بنے گا ۔