کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: جب کسی ظلم کو معاف کر دیا تو پھر واپسی کا مطالبہ باقی نہیں رہتا۔
حدیث نمبر: 2450
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128 ، قَالَتْ : " الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ لَيْسَ بِمُسْتَكْثِرٍ مِنْهَا يُرِيدُ أَنْ يُفَارِقَهَا ، فَتَقُولُ : أَجْعَلُكَ مِنْ شَأْنِي فِي حِلٍّ " ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے باپ نے ، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے` ( قرآن مجید کی آیت ) «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا‏» ” اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے نفرت یا اس کے منہ پھیرنے کا خوف رکھتی ہو “ کے بارے میں فرمایا کہ کسی شخص کی بیوی ہے لیکن شوہر اس کے پاس زیادہ آتا جاتا نہیں بلکہ اسے جدا کرنا چاہتا ہے اس پر اس کی بیوی کہتی ہے کہ میں اپنا حق تمہیں معاف کرتی ہوں ۔ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب المظالم والغصب / حدیث: 2450
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة