کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: مظلوم کی مدد کرنا واجب ہے۔
حدیث نمبر: 2445
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدٍ ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ ، فَذَكَرَ : عِيَادَةَ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعَ الْجَنَائِزِ ، وَتَشْمِيتَ الْعَاطِسِ ، وَرَدَّ السَّلَامِ ، وَنَصْرَ الْمَظْلُومِ ، وَإِجَابَةَ الدَّاعِي ، وَإِبْرَارَ الْمُقْسِمِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اشعث بن سلیم نے بیان کیا ، کہ میں نے معاویہ بن سوید سے سنا ، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے بیان کیا تھا کہ` ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم فرمایا تھا اور سات ہی چیزوں سے منع بھی فرمایا تھا ( جن چیزوں کا حکم فرمایا تھا ان میں ) انہوں نے مریض کی عیادت ، جنازے کے پیچھے چلنے ، چھینکنے والے کا جواب دینے ، سلام کا جواب دینے ، مظلوم کی مدد کرنے ، دعوت کرنے والے ( کی دعوت ) قبول کرنے ، اور قسم پوری کرنے کا ذکر کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب المظالم والغصب / حدیث: 2445
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2446
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے برید نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہے کہ ایک کو دوسرے سے قوت پہنچتی ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے اندر کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / کتاب المظالم والغصب / حدیث: 2446
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة