حدیث نمبر: Q2407
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الْفَسَادَ سورة البقرة آية 205 ، وَ لا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ سورة يونس آية 81 ، وَقَالَ فِي قَوْلِهِ : أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ سورة هود آية 87 ، وَقَالَ : وَلا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ سورة النساء آية 5 ، وَالْحَجْرِ فِي ذَلِكَ ، وَمَا يُنْهَى عَنِ الْخِدَاعِ .
مولانا داود راز
´urdu-sanad` اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا کہ «والله لا يحب الفساد» ” اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا ۔ “ اور ( اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ یونس میں کہ ) «لا يصلح عمل المفسدين» ” اور اللہ فسادیوں کا منصوبہ چلنے نہیں دیتا ۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ ہود میں ) فرمایا ہے «أصلواتك تأمرك أن نترك ما يعبد آباؤنا أو أن نفعل في أموالنا ما نشاء » ” کیا تمہاری نماز تمہیں یہ بتاتی ہے کہ جسے ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ہم ان بتوں کو چھوڑ دیں ۔ یا اپنے مال میں اپنی طبیعت کے مطابق تصرف کرنا چھوڑ دیں ۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ نساء میں ) ارشاد فرمایا «ولا تؤتوا السفهاء أموالكم» ” اپنا روپیہ بے وقوفوں کے ہاتھ میں مت دو اور بے وقوفی کی حالت میں حجر کرنا اور دھوکہ سے منع کرنا ۔ “
حدیث نمبر: 2407
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ ، فَقَالَ : إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ " ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے عرض کیا کہ خرید و فروخت میں مجھے دھوکا دے دیا جاتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب خرید و فروخت کیا کرو ، تو کہہ دیا کر کہ کوئی دھوکا نہ ہو ۔ چنانچہ پھر وہ شخص اسی طرح کہا کرتا تھا ۔
حدیث نمبر: 2408
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ ، وَمَنَعَ وَهَاتِ ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، ان سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے شعبی نے ، ان سے مغیرہ بن شعبہ کے غلام وراد نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے تم پر ماں ( اور باپ ) کی نافرمانی لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا ، ( واجب حقوق کی ) ادائیگی نہ کرنا اور ( دوسروں کا مال ناجائز طریقہ پر ) دبا لینا حرام قرار دیا ہے ۔ اور فضول بکواس کرنے اور کثرت سے سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے ۔