کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: قرض میں کمی کی سفارش کرنا۔
حدیث نمبر: 2405
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا ، فَطَلَبْتُ إِلَى أَصْحَابِ الدَّيْنِ أَنْ يَضَعُوا بَعْضًا مِنْ دَيْنِهِ ، فَأَبَوْا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَشْفَعْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ ، فَأَبَوْا ، فَقَالَ : صَنِّفْ تَمْرَكَ كُلَّ شَيْءٍ مِنْهُ عَلَى حِدَتِهِ ، عِذْقَ ابْنِ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ ، وَاللِّينَ عَلَى حِدَةٍ ، وَالْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ ، ثُمَّ أَحْضِرْهُمْ حَتَّى آتِيَكَ ، فَفَعَلْتُ ، ثُمَّ جَاءَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ ، وَكَالَ لِكُلِّ رَجُلٍ حَتَّى اسْتَوْفَى وَبَقِيَ التَّمْرُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ نے ، ان سے عامر نے ، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ( میرے والد ) عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اپنے پیچھے بال بچے اور قرض چھوڑ گئے ۔ میں قرض خواہوں کے پاس گیا کہ اپنا کچھ قرض معاف کر دیں ، لیکن انہوں نے انکار کیا ، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی سفارش کروائی ۔ انہوں نے اس کے باوجود بھی انکار کیا ۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اپنے باغ کی ) تمام کھجور کی قسمیں الگ الگ کر لو ۔ عذق بن زید الگ ، لین الگ ، اور عجوہ الگ ( یہ سب عمدہ قسم کی کھجوروں کے نام ہیں ) اس کے بعد قرض خواہوں کو بلاؤ اور میں بھی آؤں گا ۔ چنانچہ میں نے ایسا کر دیا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ڈھیر پر بیٹھ گئے ۔ اور ہر قرض خواہ کے لیے ماپ شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ سب کا قرض پورا ہو گیا اور کھجور اسی طرح باقی بچ رہی جیسے پہلے تھی ۔ گویا کسی نے اسے چھوا تک نہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستقراض / حدیث: 2405
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2406
وَغَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاضِحٍ لَنَا ، فَأَزْحَفَ الْجَمَلُ فَتَخَلَّفَ عَلَيَّ فَوَكَزَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلْفِهِ ، قَالَ : بِعْنِيهِ ، وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا اسْتَأْذَنْتُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ قُلْتُ : ثَيِّبًا أُصِيبَ عَبْدُ اللَّهِ وَتَرَكَ جَوَارِيَ صِغَارًا ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تُعَلِّمُهُنَّ وَتُؤَدِّبُهُنَّ ، ثُمَّ قَالَ : ائْتِ أَهْلَكَ ، فَقَدِمْتُ ، فَأَخْبَرْتُ خَالِي بِبَيْعِ الْجَمَلِ فَلَامَنِي ، فَأَخْبَرْتُهُ بِإِعْيَاءِ الْجَمَلِ وَبِالَّذِي كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَكْزِهِ إِيَّاهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْجَمَلِ ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَ الْجَمَلِ ، وَالْجَمَلَ وَسَهْمِي مَعَ الْقَوْمِ " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہاد میں ایک اونٹ پر سوار ہو کر گیا ۔ اونٹ تھک گیا ۔ اس لیے میں لوگوں سے پیچھے رہ گیا ۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیچھے سے مارا اور فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ دو ۔ مدینہ تک اس پر سواری کی تمہیں اجازت ہے ۔ پھر جب ہم مدینہ سے قریب ہوئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی ، عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے ابھی نئی شادی کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کنواری سے کی ہے یا بیوہ سے ؟ میں نے کہا کہ بیوہ سے ۔ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اپنے پیچھے کئی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں ۔ اس لیے میں نے بیوہ سے کی تاکہ انہیں تعلیم دے اور ادب سکھاتی رہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا اب اپنے گھر جاؤ ۔ چنانچہ میں گھر گیا ۔ میں نے جب اپنے ماموں سے اونٹ بیچنے کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے ملامت کی ۔ اس لیے میں نے ان سے اونٹ کے تھک جانے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ کا بھی ذکر کیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کو مارنے کا بھی ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو میں بھی صبح کے وقت اونٹ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹ کی قیمت بھی دے دی ، اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس بخش دیا اور قوم کے ساتھ میرا ( مال غنیمت کا ) حصہ بھی مجھ کو بخش دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستقراض / حدیث: 2406
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة