کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ایک معین مدت کے وعدہ پر قرض دینا یا بیع کرنا۔
حدیث نمبر: Q2404
قَالَ ابْنُ عُمَرَ فِي الْقَرْضِ إِلَى أَجَلٍ : لَا بَأْسَ بِهِ ، وَإِنْ أُعْطِيَ أَفْضَلَ مِنْ دَرَاهِمِهِ مَا لَمْ يَشْتَرِطْ ، وَقَالَ عَطَاءٌ ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ : هُوَ إِلَى أَجَلِهِ فِي الْقَرْضِ .
مولانا داود راز
´اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` کسی مدت معین تک کے لیے قرض میں کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ اس کے درہموں سے زیادہ کھرے درہم اسے ملیں ۔ لیکن اس صورت میں جب کہ اس کی شرط نہ لگائی ہو ۔ عطاء اور عمرو بن دینار نے کہا کہ قرض میں ، قرض لینے والا اپنی مقررہ مدت کا پابند ہو گا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستقراض / حدیث: Q2404
حدیث نمبر: 2404
وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ " .
مولانا داود راز
´لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اسرائیلی شخص کا تذکرہ فرمایا جس نے دوسرے اسرائیلی شخص سے قرض مانگا تھا اور اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے اسے قرض دے دیا ۔ ( جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستقراض / حدیث: 2404
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة