کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اگر مقروض قرض خواہ کے حق میں کم ادا کرے۔
حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَاشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي حُقُوقِهِمْ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُمْ ، أَنْ يَقْبَلُوا تَمْرَ حَائِطِي وَيُحَلِّلُوا أَبِي ، فَأَبَوْا ، فَلَمْ يُعْطِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطِي ، وَقَالَ : سَنَغْدُو عَلَيْكَ ، فَغَدَا عَلَيْنَا حِينَ أَصْبَحَ ، فَطَافَ فِي النَّخْلِ وَدَعَا فِي ثَمَرِهَا بِالْبَرَكَةِ فَجَدَدْتُهَا ، فَقَضَيْتُهُمْ وَبَقِيَ لَنَا مِنْ تَمْرِهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے بیان کیا ، ان سے کعب بن مالک نے بیان کیا ، اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` ان کے والد ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) احد کے دن شہید کر دیئے گئے تھے ۔ ان پر قرض چلا آ رہا تھا ۔ قرض خواہوں نے اپنے حق کے مطالبے میں سختی اختیار کی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرما لیا کہ وہ میرے باغ کی کھجور لے لیں ۔ اور میرے والد کو معاف کر دیں ۔ لیکن قرض خواہوں نے اس سے انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں میرے باغ کا میوہ نہیں دیا ۔ اور فرمایا کہ ہم صبح کو تمہارے باغ میں آئیں گے ۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے باغ میں تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درختوں میں پھرتے رہے ۔ اور اس کے میوے میں برکت کی دعا فرماتے رہے ۔ پھر میں نے کھجور توڑی اور ان کا تمام قرض ادا کرنے کے بعد بھی کھجور باقی بچ گئی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستقراض / حدیث: 2395
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة