کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: قرض اچھی طرح سے ادا کرنا۔
حدیث نمبر: 2393
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْطُوهُ فَطَلَبُوا سِنَّهُ ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلَّا سِنًّا فَوْقَهَا ، فَقَالَ : أَعْطُوهُ ، فَقَالَ : أَوْفَيْتَنِي وَفَى اللَّهُ بِكَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک شخص کا ایک خاص عمر کا اونٹ قرض تھا ۔ وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقاضا کرنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اونٹ دے دو ۔ صحابہ نے تلاش کیا لیکن ایسا ہی اونٹ مل سکا جو قرض خواہ کے اونٹ سے اچھی عمر کا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہی دے دو ۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ آپ نے مجھے میرا حق پوری طرح دیا اللہ آپ کو بھی اس کا بدلہ پورا پورا دے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں بہتر آدمی وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں بھی سب سے بہتر ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستقراض / حدیث: 2393
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2394
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ مِسْعَرٌ : أُرَاهُ قَالَ : ضُحًى ، فَقَالَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ، وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي " .
مولانا داود راز
´ہم سے خلاد نے بیان کیا ، ان سے مسعر نے بیان کیا ، ان سے محارب بن دثار نے بیان کیا ، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف رکھتے تھے ۔ مسعر نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے چاشت کے وقت کا ذکر کیا ۔ ( کہ اس وقت خدمت نبوی میں حاضر ہوا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو رکعت نماز پڑھ لو ۔ میرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کیا ، بلکہ زیادہ بھی دے دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستقراض / حدیث: 2394
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة