کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کیا بدلہ میں قرض والے اونٹ سے زیادہ عمر والا اونٹ دیا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 2392
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ بَعِيرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْطُوهُ ، فَقَالُوا : مَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطُوهُ ، فَإِنَّ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ أَحْسَنَهُمْ قَضَاءً " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ قطان نے ، ان سے سفیان ثوری نے کہ مجھ سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا قرض کا اونٹ مانگنے آیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اسے اس کا اونٹ دے دو ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ قرض خواہ کے اونٹ سے اچھی عمر کا ہی اونٹ مل رہا ہے ۔ اس پر اس شخص ( قرض خواہ ) نے کہا مجھے تم نے میرا پورا حق دیا ۔ تمہیں اللہ تمہارا حق پورا پورا دے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہی اونٹ دے دو کیونکہ بہترین شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ بہتر طریقہ پر اپنا قرض ادا کرتا ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستقراض / حدیث: 2392
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة