فہرستِ ابواب — صحيح البخاري

بَابُ مَنِ اشْتَرَى بِالدَّيْنِ وَلَيْسَ عِنْدَهُ ثَمَنُهُ، أَوْ لَيْسَ بِحَضْرَتِهِ:

باب: جو شخص کوئی چیز قرض خریدے اور اس کے پاس قیمت نہ ہو یا اس وقت موجود نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

حدیث 2385–2386

بَابُ مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَوْ إِتْلاَفَهَا:

باب: جو شخص لوگوں کا مال ادا کرنے کی نیت سے لے اور جو ہضم کرنے کی نیت سے لے۔

حدیث 2387–2387

بَابُ أَدَاءِ الدُّيُونِ:

باب: قرضوں کا ادا کرنا۔

حدیث 2388–2389

بَابُ اسْتِقْرَاضِ الإِبِلِ:

باب: اونٹ قرض لینا۔

حدیث 2390–2390

بَابُ حُسْنِ التَّقَاضِي:

باب: تقاضے میں نرمی کرنا۔

حدیث 2391–2391

بَابُ هَلْ يُعْطَى أَكْبَرَ مِنْ سِنِّهِ:

باب: کیا بدلہ میں قرض والے اونٹ سے زیادہ عمر والا اونٹ دیا جا سکتا ہے؟

حدیث 2392–2392

بَابُ حُسْنِ الْقَضَاءِ:

باب: قرض اچھی طرح سے ادا کرنا۔

حدیث 2393–2394

بَابُ إِذَا قَضَى دُونَ حَقِّهِ أَوْ حَلَّلَهُ فَهْوَ جَائِزٌ:

باب: اگر مقروض قرض خواہ کے حق میں کم ادا کرے۔

حدیث 2395–2395

بَابُ إِذَا قَاصَّ أَوْ جَازَفَهُ فِي الدَّيْنِ تَمْرًا بِتَمْرٍ أَوْ غَيْرِهِ:

باب: اگر قرض ادا کرتے وقت کھجور کے بدل اتنی ہی کھجور یا اور کوئی میوہ یا اناج کے بدل برابر ناپ تول کر یا اندازہ کر کے دے تو درست ہے۔

حدیث 2396–2396

بَابُ مَنِ اسْتَعَاذَ مِنَ الدَّيْنِ:

باب: قرض سے اللہ کی پناہ مانگنا۔

حدیث 2397–2397

بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ تَرَكَ دَيْنًا:

باب: قرض دار کی نماز جنازہ کا بیان۔

حدیث 2398–2399

بَابُ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ:

باب: ادائیگی میں مالدار کی طرف سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔

حدیث 2400–2400

بَابُ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالٌ:

باب: جس شخص کا حق نکلتا ہو وہ تقاضا کر سکتا ہے۔

حدیث 2401–2401

بَابُ إِذَا وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ فِي الْبَيْعِ وَالْقَرْضِ وَالْوَدِيعَةِ، فَهْوَ أَحَقُّ بِهِ:

باب: اگر بیع یا قرض یا امانت کا مال بجنسہ دیوالیہ شخص کے پاس مل جائے تو جس کا وہ مال ہے دوسرے قرض خواہوں سے زیادہ اس کا حقدار ہو گا۔

حدیث 2402–2402

بَابُ مَنْ أَخَّرَ الْغَرِيمَ إِلَى الْغَدِ أَوْ نَحْوِهِ، وَلَمْ يَرَ ذَلِكَ مَطْلاً:

باب: اگر کوئی مالدار ہو کر کل پرسوں تک قرض ادا کرنے کا وعدہ کرے تو یہ ٹال مٹول کرنا نہیں سمجھا جائے گا۔

حدیث 2403–2403

بَابُ مَنْ بَاعَ مَالَ الْمُفْلِسِ أَوِ الْمُعْدِمِ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْغُرَمَاءِ، أَوْ أَعْطَاهُ حَتَّى يُنْفِقَ عَلَى نَفْسِهِ:

باب: دیوالیہ یا محتاج کا مال بیج کر قرض خواہوں کو بانٹ دینا یا خود اس کو ہی دے دینا کہ اپنی ذات پر خرچ کرے۔

حدیث 2403–2403

بَابُ إِذَا أَقْرَضَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى أَوْ أَجَّلَهُ فِي الْبَيْعِ:

باب: ایک معین مدت کے وعدہ پر قرض دینا یا بیع کرنا۔

حدیث 2404–2404

بَابُ الشَّفَاعَةِ فِي وَضْعِ الدَّيْنِ:

باب: قرض میں کمی کی سفارش کرنا۔

حدیث 2405–2406

بَابُ مَا يُنْهَى عَنْ إِضَاعَةِ الْمَالِ:

باب: مال کو تباہ کرنا یعنی بے جا اسراف منع ہے۔

حدیث 2407–2408

بَابُ الْعَبْدُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَلاَ يَعْمَلُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ:

باب: غلام اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اس کی اجازت کے بغیر اس میں کوئی تصرف نہ کرے۔

حدیث 2409–2409

اس باب کی تمام احادیث