کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: قطعات اراضی بطور جاگیر دے کر ان کو سند لکھ دینا۔
حدیث نمبر: 2377
وَقَالَ اللَّيْثُ : عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ فَعَلْتَ فَاكْتُبْ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " .
مولانا داود راز
´اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا کر بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینے چاہے تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اگر آپ کو ایسا کرنا ہی ہے تو ہمارے بھائی قریش ( مہاجرین ) کو بھی اسی طرح کی قطعات کی سند لکھ دیجئیے ۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی زمین ہی نہ تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ” میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر مقدم کیا جائے گا ۔ تو اس وقت تم مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: 2377
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة