کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: بلند کھیت والا ٹخنوں تک پانی بھر لے۔
حدیث نمبر: 2362
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ يَسْقِي بِهَا النَّخْلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْقِ يَا زُبَيْرُ ، فَأَمَرَهُ بِالْمَعْرُوفِ ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : اسْقِ ، ثُمَّ احْبِسْ يَرْجِعَ الْمَاءُ إِلَى الْجَدْرِ وَاسْتَوْعَى لَهُ حَقَّهُ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65 " . قَالَ لِي ابْنُ شِهَابٍ : فَقَدَّرَتْ الْأَنْصَارُ وَالنَّاسُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْقِ ، ثُمَّ احْبِسْ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ، وَكَانَ ذَلِكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو مخلد نے خبر دی کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک انصاری مرد نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے ندی کے بارے میں جس سے کھجوروں کے باغ سیراب ہوا کرتے تھے ، جھگڑا کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زبیر ! تم سیراب کر لو ۔ پھر اپنے پڑوسی بھائی کے لیے جلد پانی چھوڑ دینا ۔ اس پر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ جی ہاں ! آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے زبیر ! تم سیراب کرو ، یہاں تک کہ پانی کھیت کی مینڈوں تک پہنچ جائے ۔ اس طرح آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوا دیا ۔ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ قسم اللہ کی یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی تھی «لا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم‏» ” ہرگز نہیں ، تیرے رب کی قسم ! اس وقت تک یہ ایمان والے نہیں ہوں گے جب تک اپنے جملہ اختلافات میں آپ کو حکم نہ تسلیم کر لیں ۔ “ ابن شہاب نے کہا کہ انصار اور تمام لوگوں نے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بنا پر کہ ” سیراب کرو اور پھر اس وقت تک رک جاؤ ، جب تک پانی منڈیروں تک نہ پہنچ جائے ۔ “ ایک اندازہ لگا لیا ، یعنی پانی ٹخنوں تک بھر جائے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: 2362
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة