کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس کے بارے میں جس نے کہا کہ پانی کا مالک پانی کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: Q2353
حَتَّى يَرْوَى لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ یہاں تک وہ ( اپنا کھیت باغات وغیرہ ) سیراب کر لے ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ضرورت سے زیادہ جو پانی ہو اس سے کسی کو نہ روکا جائے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: Q2353
حدیث نمبر: 2353
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوالزناد نے ، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچے ہوئے پانی سے کسی کو اس لیے نہ روکا جائے کہ اس طرح جو ضرورت سے زیادہ گھاس ہو وہ بھی رکی رہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: 2353
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2354
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعُوا بِهِ فَضْلَ الْكَلَإِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابن مسیب اور ابوسلمہ نے ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فالتو پانی سے کسی کو اس غرض سے نہ روکو کہ جو گھاس ضرورت سے زیادہ ہو اسے بھی روک لو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المساقاة / حدیث: 2354
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة