کتب حدیث ›
صحيفه همام بن منبه › ابواب
› باب: پہلی امتوں کے لیے مال غنیمت جائز نہ تھا ۔ ۔ ۔ اور ایک نبی کا واقعہ
حدیث نمبر: 124
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ : لا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ كَانَ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِي، وَلا آخَرُ بَنَى بِنَاءً لَهُ وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا، وَلا آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلادَهَا، فَغَزَا فَدَنَا الْقَرْيَةَ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ : أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ، فَقَالَ : فِيكُمْ غُلُولٌ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَبَايَعُوهُ فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ، فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُهُ، فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ فَلَصِقَ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ، قَالَ : فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ، قَالَ : فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(گذشتہ) انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی نے لڑائی کی تیاری کی اور انہوں نے قوم سے کہا: ایسا شخص میری اتباع نہ کرے جس نے شادی کی ہے اور وہ اپنی بیوی سے شب زفاف گزارنے کا متمنی ہو لیکن ابھی اپنی بیوی سے خلوت نشین نہیں ہوا، اور نہ وہ شخص میری پیروی کرے جس نے اپنا مکان تعمیر کیا ہے لیکن اس پر چھت نہیں چڑھائی، اور نہ وہ شخص چلے جس نے گابھن بکریاں اور گابھن اونٹنیاں خریدی ہیں اور وہ ان کے بچے پیدا ہونے کا منتظر ہے، پھر اس نبی نے جنگ لڑی، نماز عصر کے وقت یا عصر کے قریب اس بستی میں پہنچے تو اس نبی علیہ السلام نے سورج سے کہا: ’’تو بھی امرِ الٰہی کا پابند ہے اور میں بھی امرِ الٰہی کا پابند ہوں۔‘‘ (اس کے بعد اللہ کے حضور دعا کی) اے اللہ! اس سورج کو کچھ وقت میرے خاطر روک دے۔ پھر سورج روک دیا گیا، حتیٰ کہ اللہ نے انہیں فتح یاب فرمایا، پھر لوگوں نے مالِ غنیمت جمع کیا (جب جمع کر چکے تو) پھر اسے لقمہ (جلانے) کے لیے آگ آئی، لیکن اس نے لقمہ (جلانے) بنانے (کھانے) سے انکار کر دیا۔ اس پر اس نبی علیہ السلام نے کہا: تم میں سے کسی آدمی نے (مال غنیمت) میں خیانت کی ہے۔ لہٰذا ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی میرے ہاتھ پر بیعت کرے، پھر جب سلسلہ بیعت شروع ہوا تو ایک آدمی کا ہاتھ اس نبی علیہ السلام کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ تو نبی علیہ السلام نے فرمایا: خیانت کرنے والا آدمی تمہارے ہی قبیلہ میں موجود ہے، لہٰذا اب تمہارا پورا قبیلہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کی اور پھر دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ نبی علیہ السلام کے ہاتھ سے چمٹ گئے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا: خیانت تمہارے قبیلہ والوں نے کی ہے۔ آخر کار وہ گائے کے سر کے برابر سونا نکال لائے (جو مال غنیمت میں سے چرا لیا گیا تھا) اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا، پھر آگ آئی اور اس مال کو لقمہ بنا لیا۔“ (آخر میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم سے پہلے لوگوں کے لیے غنیمت کا مال جائز نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کے پیشِ نظر اس مال کو ہمارے لیے جائز بنا دیا۔“