حدیث نمبر: 107
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : " كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ لَهُ، وَشَتَمَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ لَهُ، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ : لَنْ يُعِيدَنَا كَمَا بَدَأَنَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ : اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے بندے نے میری تکذیب کی حالانکہ اسے یہ زیب نہیں دیتا، اور میرے بندے نے مجھے گالی دی جب کہ یہ اس کے شایانِ شان نہیں ہے۔ (بہرحال) اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ ہرگز پیدا نہیں کرے گا، جیسے اس نے ہمیں ابتدا پیدا کیا ہے۔ اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے، حالانکہ میں بے نیاز ہوں، نہ میری کوئی اولاد ہے، اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور میرا کوئی ہمسر نہیں۔“