کتب حدیثصحيفه همام بن منبهابوابباب: حدیث مصراۃ
حدیث نمبر: 98
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَا أَحَدُكُمُ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً أَوْ شَاةً، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا، إِمَّا هِيَ وَإِلا فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص «مصراة» (جس جانور کا تھنوں میں دودھ روک دیا گیا ہو) اونٹنی یا بکری خریدے، تو دودھ دوہنے کے بعد اسے دو چیزوں میں سے بہتر کے انتخاب کا اختیار ہے، چاہے تو اسے اپنے پاس رکھ لے یا پھر واپس کر دے، اور دودھ دوہنے کے عوض میں اس کے مالک کو ایک «صاع» کھجوریں بھی دے۔“
حوالہ حدیث صحيفه همام بن منبه / متفرق / حدیث: 98
تخریج حدیث «صحيح بخاري، كتاب البيوع، باب النهى للبائع ألا يحفل الإبل والبقر والغنم وكل محفلة، رقم: 2148، 2150، 2151 - صحيح مسلم، كتاب البيوع، باب حكم بيع المصراة، رقم: 1524/28، حدثنا محمد بن رافع: حدثنا عبدالرزاق: حدثنا معمر عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا أبو هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم، فذكر أحاديث منها: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: .... - مسند أحمد: 90/16، رقم: 101/8195 - سنن الترمذي، كتاب البيوع، باب ما جاء فى المصراة، رقم: 1251 - سنن الكبرىٰ، كتاب البيوع، باب الحكم فيمن اشترىٰ مصراة، رقم: 10713 - شرح السنة، باب بيع المصراة وغيره، رقم: 21000، وقال: هذا حديث صحيح.»