حدیث نمبر: 86
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوَرُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لا يَبْصُقُونَ فِيهَا وَلا يَمْتَخِطُونَ وَلا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا، آنِيَتُهُمْ وَأَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَمَجَامِرُهُمْ مِنَ الأَلُوَّةِ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ، لا اخْتِلافَ بَيْنَهُمْ وَلا تَبَاغُضَ، قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبٍ وَاحِدٍ، يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی۔ وہ (جنتی) نہ تو اس میں تھوکیں گے، نہ ناک صاف کریں گے اور نہ ہی رفع حاجت کریں گے، ان کے برتن اور کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی۔ ان کی انگیٹھیوں (کا ایندھن) عود ہندی (خوشبودار لکڑی) ہے۔ ان کا پسینہ کستوری کی مانند (خوشبودار) ہو گا اور ہر ایک جنتی کی دو دو بیویاں ہوں گی، جن کی پنڈلیوں کا گودا خوبصورتی کی وجہ سے گوشت کے بیچ سے نظر آئے گا۔ نیز جنتیوں کے درمیان کسی قسم کا نہ کوئی اختلاف ہو گا اور نہ کوئی بغض، سب کے دل ایک دل کی مانند ہوں گے اور صبح شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہوں گے۔“