حدیث نمبر: 27
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاةِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، يَخْطِرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ وَيَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ مِنْ قَبْلُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَيْفَ صَلَّى "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے (اذان) ہوتی ہے، تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگ نکلتا ہے، جس سے اسے اذان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ جب ندائے صلٰوۃ اختتام کو پہنچ جاتی ہے، تو پھر وہ لوٹ آتا ہے۔ اس کے بعد جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے، تو پھر وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے اور جب تکبیر اختتام کو پہنچ جاتی ہے، تو (وہ) نمازی کے دل میں کھٹکا ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر، فلاں واقع یاد کر، جو اس سے پہلے اس کو یاد نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ نمازی کو یہ یاد نہیں رہتا، اس نے کتنی (رکعات) نماز پڑھی ہے۔“