حدیث نمبر: 23
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبُّ الْمَالِ مَنْ يَتَقَبَّلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ، قَالَ : وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ وَيَقْتَرِبُ الزَّمَانُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ "، قَالُوا : الْهَرْجُ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ الْقَتْلُ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم میں مال کی کثرت نہ ہو جائے، پس وہ بہہ پڑے گا، یہاں تک کہ مالدار کو اس بات کی فکر ہو گی کہ میری زکوٰۃ مجھ سے کون قبول کرے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور علم اٹھا لیا جائے گا، اور زمانہ (قیامت سے) قریب ہو جائے گا، اور فتنے ظاہر ہوں گے، اور ہرج کثرت سے ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (ہرج) کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل و غارت، قتل و غارت۔“