حدیث نمبر: 4
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي يَقَعْنَ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، وَجَعَلَ يَحْجُزُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَتَقَحَّمْنَ فِيهَا، فَذَاكَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، فَتَغْلِبُونِي تَقَحَّمُونَ فِيهَا "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال ایسے شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی ہو۔ پھر جب اطراف کی چیزیں روشن ہو جاتی ہیں تو پروانے اور کیڑے مکوڑے جو آگ میں گرا کرتے ہیں، اس میں گرنے لگے ہوں، اور وہ شخص ان کو روکنے لگتا ہے لیکن وہ اس (شخص) پر غالب آ جاتے ہیں اور آگ میں گرنے لگتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس میری اور تمہاری مثال یہی ہے، میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ کر آگ سے بچانا چاہتا ہوں (اور پکار پکار کر کہتا ہوں کہ) آگ سے بچو، آگ سے بچ جاؤ، مگر تم مجھ پر غالب آ جاتے ہو اور آگ میں گھستے ہی چلے جاتے ہو۔“