حدیث نمبر: 1
هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ، فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَالْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ "
ترجمہ:حافظ عبداللہ شمیم
سید الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ”ہم تمام امتوں کے بعد ہونے کے باوجود قیامت میں سب سے آگے رہیں گے، فرق صرف یہ ہے کہ کتاب انہیں ہم سے پہلے دی گئی تھی، اور ہمیں ان کے بعد۔ پس یہی (جمعہ) ان کا بھی دن تھا جو ان پر فرض کیا گیا۔ (لیکن) ان لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا، پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دن بتا دیا، اس لیے وہ (اس میں) ہمارے تابع ہو گئے۔ یہود دوسرے دن ہوں گے، اور نصاریٰ تیسرے دن۔“