کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: مدینے کی مصیبتوں پر صبر کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 648
406- مالك عن قطن بن وهب عن عويمر بن الأجدع أن يحنس مولى الزبير أخبره أنه كان جالسا عند عبد الله بن عمر فى الفتنة، فأتته مولاة له تسلم عليه، فقالت: إني أردت الخروج يا أبا عبد الرحمن، اشتد علينا الزمان، فقال لها عبد الله بن عمر: اقعدي لكاع، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ”لا يصبر على لأوائها وشدتها أحد إلا كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة.“
حافظ زبیر علی زئی
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے غلام یحنس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس فتنے (مسلمانوں کی باہمی جنگ) کے دور میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کی ایک لونڈی سلام کرنے کے لئے آئی تو کہا: اے ابوعبدالرحمٰن ! میں (مدینے سے) نکل جانا چاہتی ہوں ، ہم پر زمانہ بہت سخت ہے ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: اری بیوقوف بیٹھ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینے کی مصیبتوں اور سختیوں پر جو بھی صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس پر گواہ یا اس کا سفارشی ہوں گا ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 648
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «406- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 885/2 ، 886 ح 1703 ، ك 45 ب 2 ح 3) التمهيد 22/21 ، 23 ، الاستذكار : 1633 ، و أخرجه مسلم (1377/482) من حديث مالك به ، من كتب الرجال وجاء فى الأصل : ” قطن بن واحد “ وهو خطأ ۔ ، من رواية يحيي بن يحيي ، وجاء فى الأصل : ” عن “ وهو خطأ.»