کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: قبلہ کی طرف تھوکنا حرام ہے
حدیث نمبر: 591
205- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى بصاقا فى جدار القبلة فحكه: ثم أقبل على الناس فقال: ”إذا كان أحدكم يصلي فلا يبصق قبل وجهه فإن الله قبل وجهه إذا صلى.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی طرف دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے کھرچ (کر صاف کر) دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے نہ تھوکے کیونکہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اس کے سامنے اللہ ہوتا ہے۔ “
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 591
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «205- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 194/1 ح 458 ، ك 14 ب 3 ح 4) التمهيد 154/14 ، الاستذكار :427 ، و أخرجه البخاري (406) ومسلم (547) من حديث مالك به.»
حدیث نمبر: 592
460- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى فى جدار القبلة بصاقا أو مخاطا أو نخامة فحكه.
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ دیوار پر تھوک یا بلغم دیکھا تو اسے کھرچ (کر صاف کر) دیا ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 592
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «460- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 195/1 ح 459 ، ك 14 ب 3 ح 5) التمهيد 136/22 ، الاستذكار : 428 ، و أخرجه البخاري (407) ومسلم (549) من حديث مالك به.»