کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: شہادت کی آرزو سنت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے
حدیث نمبر: 556
347- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”والذي نفسي بيده، لوددت أني أقاتل فى سبيل الله فأقتل، ثم أحيا فأقتل، ثم أحيا فأقتل، فكان أبو هريرة يقول ثلاثا: أشهد بالله.
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں قتال کروں پھر مارا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں (تو قتال کروں) پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تین دفعہ فرماتے : میں اللہ (کی قسم) کے ساتھ گواہی دیتا ہوں۔ “
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 556
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «347- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 460/2 ح 1014 ، ك 21 ب 14 ح 27) التمهيد 340/18 ، الاستذكار : 951 ، وأخرجه البخاري (7227) من حديث مالك به ، ومسلم (1867/106) من حديث ابي الزناد به.»
حدیث نمبر: 557
506- مالك عن يحيى بن سعيد عن أبى صالح السمان عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لولا أن أشق على أمتي، لأحببت أن لا أتخلف عن سرية تخرج فى سبيل الله، ولكن لا أجد ما أحملهم عليه، ولا يجدون ما يتحملون عليه فيخرجون، ويشق عليهم أن يتخلفوا بعدي، فوددت أني أقاتل فى سبيل الله فأقتل، ثم أحيا فأقتل، ثم أحيا فأقتل.
حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں کسی جہادی دستے سے پیچھے نہ رہوں جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے لیکن میرے پاس تمہاری سواری کے لئے کوئی چیز نہیں ہے اور نہ لوگوں کے پاس سواریاں ہیں تاکہ وہ (اللہ کے راستے میں) نکلیں اور لوگوں کو اس میں تکلیف ہو گی کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں ۔ پس میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں قتال کروں تو قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں تو قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں تو قتل کیا جاؤں ۔ “
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 557
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «506- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 465/2 ح 1027 ، ك 21 ب 18 ح 40) التمهيد 227/23 ، الاستذكار : 964 ، و أخرجه النسائي فى الكبريٰ (259/5 ح 8835) من حديث مالك به ورواه البخاري (2972) ومسلم (1876/6) من حديث يحيي بن سعيد الانصاري به ، وفي رواية يحيي بن يحيي : ” ولٰكني “ .»