کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: جو شخص کسی میت کے قرض کا ضامن بن جائے تو اس کے بعد اس سے رجوع نہیں کر سکتا۔
حدیث نمبر: Q2295
وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ .
مولانا داود راز
اور حسن نے بھی اسی طرح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ ؟ قَالُوا : لَا ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے ، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں نماز پڑھنے کے لیے کسی کا جنازہ آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ۔ کیا اس میت پر کسی کا قرض تھا ؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھا دی ۔ پھر ایک اور جنازہ آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، میت پر کسی کا قرض تھا ؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں تھا ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ پھر اپنے ساتھی کی تم ہی نماز پڑھ لو ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کا قرض میں ادا کر دوں گا ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔
حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ قَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، فَلَمْ يَجِئْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَمَرَ أَبُو بَكْرٍ فَنَادَى مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِي : كَذَا وَكَذَا ، فَحَثَى لِي حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا ، فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ ، وَقَالَ : خُذْ مِثْلَيْهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے محمد بن علی باقر سے سنا ، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بحرین سے ( جزیہ کا ) مال آیا تو میں تمہیں اس طرح دونوں لپ بھربھر کر دوں گا لیکن بحرین سے مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک نہیں آیا پھر جب اس کے بعد وہاں سے مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کرا دیا کہ جس سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ پر کسی کا قرض ہو وہ ہمارے یہاں آ جائے ۔ چنانچہ میں حاضر ہوا ۔ اور میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ وہ باتیں فرمائی تھیں ۔ جسے سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا ۔ میں نے اسے شمار کیا تو وہ پانچ سو کی رقم تھی ۔ پھر فرمایا کہ اس کے دو گنا اور لے لو ۔