حدیث نمبر: 416
138- وبه: عن أبيه أنه قال: سألت أبا سعيد الخدري عن الإزار فقال: أنا أخبرك بعلم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ”إزرة المؤمن إلى أنصاف ساقيه، لا جناح عليه فيما بينه وبين الكعبين، ما أسفل من ذلك ففي النار“، قال ذلك ثلاث مرات ”لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا.“
حافظ زبیر علی زئی
العلاء کے والد (عبدالرحمٰن بن یعقوب) سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ازار کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : میں تجھے علم کے ساتھ بتاتا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : مومن کا ازار آدھی پنڈلیوں تک ہوتا ہے ، اس سے لے کر ٹخنوں تک کوئی حرج نہیں ہے ، اس سے جو نیچے ہو گا تو وہ آگ میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی : جو شخص تکبر سے اپنا ازار گھسیٹے گا تو قیامت کے دن اللہ اسے (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا ۔
حدیث نمبر: 417
165- وعن نافع وعبد الله بن دينار وزيد بن أسلم، كلهم يخبره عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر ثوبه بطرا.“
حافظ زبیر علی زئی
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اللہ قیامت کے دن اس شخص کو (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا جو اپنا کپڑا تکبر سے گھسیٹ کے چلتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 418
290- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”الذي يجر ثوبه خيلاء لا ينظر الله إليه يوم القيامة.
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا ۔ “
حدیث نمبر: 419
358- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص تکبر سے اپنا ازار گھسیٹ کر چلے گا تو اللہ اسے قیامت کے دن (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا ۔ “