مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: ہر قسم کی شراب حرام ہے
حدیث نمبر: 391
118- وبه أنه قال: كنت أسقي أبا عبيدة بن الجراح وأبا طلحة الأنصاري وأبي بن كعب شرابا من فضيخ تمر، فجاءهم آت فقال لهم: إن الخمر قد حرمت. فقال أبو طلحة: يا أنس، قم إلى هذه الجرار فاكسرها. قال: فقمت إلى مهراس لنا فضربتها بأسفلها حتى تكسرت.
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں (شراب کی حرمت سے پہلے) ابوعبیدہ بن الجراح ، ابوطلحہ انصاری اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو کھجور اور چھوہاروں کی شراب پلا رہا تھا کہ ایک شخص نے آ کر انہیں بتایا : بےشک شراب حرام ہو گئی ہے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انس ! اٹھ اور ان مٹکوں کو توڑ دے، پھر میں نے ایک پتھر (موسل) لے کر ان مٹکوں کو مارا حتیٰ کہ وہ ٹکڑے ٹکڑ ے ہو گئے ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 391
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
حدیث تخریج «118- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 446/2 ، 447 ح 1644 ، ك 42 ب 5 ح 13) التمهيد 242/1، الاستذكار : 1572 ، و أخرجه البخاري (5582) ومسلم (1980/9 بعد ح 1981) من حديث مالك به.»
حدیث نمبر: 392
20- مالك عن ابن شهاب عن أبى سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أنها قالت: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البتع فقال: ”كل شراب أسكر حرام.“
حافظ زبیر علی زئی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تبع (شہد کی شراب) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر وہ مشروب جو نشہ دے حرام ہے ۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 392
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «20- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 845/2 ح 1640 ، ك 42 ب 4 ح 9) التمهيد 124/7 ، الاستذكار : 1569 ، و أخرجه البخاري (5585) ومسلم (2001) من حديث مالك به ، من رواية يحيي.»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔