مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: ولیمہ ضرور کیا جائے اگرچہ مختصر ہی ہو
حدیث نمبر: 362
150- وبه: أن عبد الرحمن بن عوف جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وبه أثر صفرة، فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره أنه تزوج امرأة من الأنصار، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”كم سقت إليها؟“ فقال: زنة نواة من ذهب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”أولم ولو بشاة.“
حافظ زبیر علی زئی
اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان پر زردی کا نشان تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: (یہ کیا ہے ؟) انہوں (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے بتایا کہ انہوں نے انصار کی ایک عورت سے شادی کر لی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے اسے (حق مہر میں) کیا دیا ہے ؟“ انہوں نے جواب دیا : کھجور کی ایک گٹھلی کے برابر سونا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو ۔ “
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 362
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «150- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 545/2 ح 1184 ، ك 28 ب 21 ح 47) التمهيد 178/2 ، الاستذكار :1104 ، و أخرجه البخاري (5153) من حديث مالك به ورواه مسلم (1427/81) من حديث حميد الطويل به وصرح حميد بالسماع عند البخاري (5072)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔