کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية ابن القاسم › ابواب
› باب: جو عورت طواف افاضہ کر چکی ہو اور حیض سے دوچار ہو جائے
حدیث نمبر: 332
388- وبه: عن عائشة أن صفية بنت حيي زوج النبى صلى الله عليه وسلم حاضت، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ”أحابستنا هي؟“ فقيل: إنها قد أفاضت، قال: ”فلا إذا.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو (حج کے بعد) حیض کی بیماری لاحق ہوئی تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا وہ ہمیں روکنا چاہتی ہے ؟“ پھر کہا گیا کہ انہوں نے طواف اضافہ کر لیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تو پھر کوئی بات نہیں (چلو)۔“
حدیث نمبر: 333
468- وبه: عن عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أن النبى صلى الله عليه وسلم ذكر صفية بنت حيي فقيل له: قد حاضت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”لعلها حابستنا؟ فقالوا له: إنها قد طافت، قال صلى الله عليه وسلم: فلا إذا“. قال عروة: قالت عائشة: ونحن نذكر ذلك فلم تقدم الناس بنسائهم إذا كان ذلك لا ينفعهن ولو كان الذى يقولون لأصبح بمنى أكثر من ستة آلاف امرأة حائض، كلهن قد أفاض.
حافظ زبیر علی زئی
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو عرض کیا گیا : انہیں حیض کی بیماری لاحق ہو گئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”شاید وہ ہمیں (سفر سے) روکنے والی ہیں ؟“ لوگوں نے کہا: انہوں نے (افاضے و زیارت والا) طواف کر لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پھر کوئی بات نہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اور ہم اس بات کا ذکر کیا کرتے تھے کہ اگر عورتوں کو پہلے بھیجنا مفید نہیں ہے تو لوگ اپنی عورتوں کو کیوں بھیج دیتے ہیں ؟ اگر وہی بات ہے جو یہ کہتے ہیں (کہ طواف وداع کے لئے ٹھہرنا ضروری ہے) تو منیٰ میں چھ ہزار سے زیادہ عورتیں (طواف وداع کے انتظار میں) حالت حیض میں پڑھی ہوتیں جو سب طواب افاضہ کر چکی ہیں ۔