کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية ابن القاسم › ابواب
› باب: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرنا
حدیث نمبر: 327
190- مالك عن موسى بن عقبة عن كريب مولى ابن عباس عن أسامة بن زيد أنه سمعه يقول: دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة، حتى إذا كان بالشعب نزل فبال ثم توضأ ولم يسبغ الوضوء، فقلت له: الصلاة، فقال: ”الصلاة أمامك.“ فركب. فلما جاء المزدلفة نزل فتوضأ وأسبغ الوضوء، ثم أقيمت الصلاة فصلى المغرب، ثم أناخ كل إنسان بعيره فى منزله، ثم أقيمت العشاء فصلاها، ولم يصل بينهما شيئا.
حافظ زبیر علی زئی
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس لوٹے حتیٰ کہ جب (مزدلفہ سے پہلے) ایک گھاٹی پر اترے تو پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور پورا وضو نہ کیا ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: نماز پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نماز آگے ہے ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور جب مزدلفہ میں پہنچے تو اتر کر وضو کیا اور پورا وضو کیا، پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی ، پھر ہر انسان نے اپنے اونٹ کو اپنے مقام پر بٹھا دیا ۔ پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی ۔
حدیث نمبر: 328
وبه عن عدي بن ثابت الانصاري ان عبدالله بن يزيد الخطم اخبره ان ابا ايوب الانصاري اخبره انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى حجة الوداع المغرب والعشاء بالمزدلفة جميعا .
حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوایوب الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھیں ۔