کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: صدقہ دے کر واپس لینے کی وعید
حدیث نمبر: 285
168- وبه: أنه قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: حملت على فرس فى سبيل الله فأضاعه الذى كان عنده، فأردت أن أبتاعه منه وظننت أنه بائعه برخص فسألت عن ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ”لا تشتره وإن أعطاكه بدرهم، فإن العائد فى صدقته كالكلب يعود فى قيئه.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (اسلم) سے روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے اللہ کے راستے میں ایک گھوڑا صدقہ کیا تو جس کے پاس یہ گھوڑا تھا اس نے (کمزور کر کے) ضائع کر دیا، پھر میں نے یہ ارادہ کیا کہ اسے اس سے خرید لوں کیونکہ میرا یہ خیال تھا کہ وہ اسے سستا بیچے گا ، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے نہ خریدو اگرچہ وہ تمہیں ایک درہم کا ہی کیو ں نہ دے ، کیونکہ اپنا صدقہ واپس لینے والا کتے کی مانند ہے جو اپنی قے (الٹی) کو چاٹ لیتا ہے۔ “
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 285
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «168- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 282/1 ح 629 ، ك 17 ب 26 ح 49) التمهيد 257/3 ، الاستذكار :580 ، و أخرجه البخاري (1490) ومسلم (1620) من حديث مالك به.»
حدیث نمبر: 286
214- وبه: أن عمر بن الخطاب حمل على فرس عتيق فى سبيل الله، فوجده يباع، فأراد أن يبتاعه فسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فقال: ”لا تبتعه ولا تعد فى صدقتك.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں ایک بہترین گھوڑا صدقہ کیا تھا ، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا، پھر انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو ۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 286
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث «214- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 282/1 ح 630 ، ك 17 ب 26 ح 50) التمهيد 74/14 ، الاستذكار :581 ، و أخرجه البخاري (2971) ومسلم (1621) من حديث مالك به.»