مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 267
516- وبه: عن أبى سلمة عن أبى سعيد الخدري أنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعتكف فى العشر الوسط من رمضان، فاعتكف عاما. حتى إذا كان ليلة إحدى وعشرين، وهى الليلة التى يخرج من صبيحتها من اعتكافه، قال: ”من كان اعتكف معي فليعتكف فى العشر الأواخر، فقد رأيت هذه الليلة ثم أنسيته، وقد رأيتني أسجد فى صبيحتها فى ماء وطين، فالتمسوها فى العشر الآخر، والتمسوها فى كل وتر“ قال أبو سعيد: فأمطرت السماء تلك الليلة، وكان المسجد على عريش، فوكف المسجد. قال أبو سعيد: فنظرت عيناني رسول الله صلى الله عليه وسلم على جبينه وأنفه أثر الماء والطين فى صبح واحد وعشرين.
حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے پھر ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا حتی کہ اکیسویں (21 رمضان) کی رات ہوئی جس کی صبح آپ اعتکاف سے نکلتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے تو وہ آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے کیونکہ میں نے اس (قدر کی) رات کو دیکھا ہے ، پھر بھلا دیا گیا ہوں اور میں نے دیکھا کہ میں اس کی صبح کو پانی اور مٹی پر سجدہ کر رہا تھا۔ “ لہٰذا اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور ہر طاق رات میں تلاش کرو ۔ ابوسعید (خدری رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : اس رات بارش ہوئی اور مسجد کی چھت کھجور کی ٹہنیوں کی تھی جو ٹپکنے لگی تھی ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری دونوں آنکھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں (21) کی صبح کو پانی اور مٹی کا اثر تھا ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 267
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
حدیث تخریج «516- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 319/1 ح 709 ، ك 19 ب6 ح 9) التمهيد 51/23 ، الاستذكار : 658 ، و أخرجه البخاري (2027) من حديث مالك به.»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔