مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنا اور افطار کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 242
208- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر رمضان، فقال: ”لا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا : ”جب تک تم (رمضان کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور جب تک تم (عید کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ افطار (یعنی عید) نہ کرو اور اگر موسم ابر آلود ہو تو (تیس کی) گنتی پوری کرو ۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 242
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
حدیث تخریج «208- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 286/1 ح 639 ، ك 18 ب 1 ح 1) التمهيد 337/1 ، الاستذكار :589 ، و أخرجه البخاري (1906) ومسلم (1080) من حديث مالك به.»
حدیث نمبر: 243
282- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”الشهر تسع وعشرون، فلا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له .“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مہینہ انتیس (29) دنوں کا ہوتا ہے لہٰذا جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار (عید) نہ کرو ۔ پھر اگر تم پر موسم ابر آلود ہو تو (تیس دن) پورے کر لو ۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 243
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
حدیث تخریج «282- الموطأ (رواية يحيٰي بن يحيٰي 286/1 ح 640 ، ك 18 ب 1 ح 2) التمهيد 79/17 ، الاستذكار : 590 و أخرجه البخاري (1907) من حديث مالك به .»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔