حدیث نمبر: Q2274
وَلَمْ يَرَ ابْنُ سِيرِينَ ، وَعَطَاءٌ ، وَإِبْرَاهِيمُ ، وَالْحَسَنُ بِأَجْرِ السِّمْسَارِ بَأْسًا ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا بَأْسَ أَنْ يَقُولَ بِعْ هَذَا الثَّوْبَ ، فَمَا زَادَ عَلَى كَذَا وَكَذَا فَهُوَ لَكَ ، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : إِذَا قَالَ بِعْهُ بِكَذَا فَمَا كَانَ مِنْ رِبْحٍ فَهُوَ لَكَ ، أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ .
مولانا داود راز
اور ابن سیرین اور عطاء اور ابراہیم اور حسن بصری رحمہم اللہ دلالی پر اجرت لینے میں کوئی برائی نہیں خیال کرتے تھے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ، اگر کسی سے کہا جائے کہ یہ کپڑا اتنی قیمت میں بیچ لا ۔ جتنا زیادہ ہو وہ تمہارا ہے ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ابن سیرین نے فرمایا کہ اگر کسی نے کہا کہ اتنے میں بیچ لا ، جتنا نفع ہو گا وہ تمہارا ہے یا ( یہ کہا کہ ) میرے اور تمہارے درمیان تقسیم ہو جائے گا ۔ تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اپنی طے کردہ شرائط پر قائم رہیں گے ۔
حدیث نمبر: 2274
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ ، وَلَا يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " ، قُلْتُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، مَا قَوْلُهُ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، قَالَ : لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، ان سے معمر نے بیان کیا ، ان سے ابن طاؤس نے ، ان سے ان کے باپ نے ، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی ) قافلوں سے ( منڈی سے آگے جا کر ) ملاقات کرنے سے منع فرمایا تھا ۔ اور یہ کہ شہری دیہاتی کا مال نہ بیچیں ، میں نے پوچھا ، اے ابن عباس رضی اللہ عنہما ! ” شہری دیہاتی کا مال نہ بیچیں “ کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ ان کے دلال نہ بنیں ۔