کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: ایک شخص کو ایک میعاد کے لیے نوکر رکھ لینا اور کام بیان نہ کرنا۔
حدیث نمبر: Q2267
لِقَوْلِهِ: {إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ} إِلَى قَوْلِهِ: {عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ} يَأْجُرُ فُلاَنًا يُعْطِيهِ أَجْرًا، وَمِنْهُ فِي التَّعْزِيَةِ أَجَرَكَ اللَّهُ.
مولانا داود راز
سورۃ قصص میں اللہ تعالیٰ نے ( شعیب علیہ السلام کا قول یوں ) بیان فرمایا ہے کہ «إني أريد أن أنكحك إحدى ابنتى هاتين» ” میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے کسی کا تم سے نکاح کر دوں “ آخر آیت «على ما نقول وكيل» تک ۔ عربوں کے ہاں «يأجر فلانا» بول کر مراد ہوتا ہے ، یعنی فلاں کو وہ مزدوری دیتا ہے ۔ اسی لفظ سے مشتق تعزیت کے موقعہ پر یہ لفظ کہتے «أجرك الله.» ( اللہ تجھ کو اس کا اجر عطا کرے ) ۔