کتب حدیث ›
موطا امام مالك رواية ابن القاسم › ابواب
› باب: جس کے تین یا دو بچے فوت ہو جائیں، اس کی فضیلت
حدیث نمبر: 239
15- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار إلا تحلة القسم.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مسلمانوں میں سے جس کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے (جہنم کی) آگ نہیں چھوئے گی سوائے قسم پوری کرنے کے ۔“
حدیث نمبر: 240
94- مالك عن محمد بن أبى بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه عن أبى النضر السلمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد فيحتسبهم إلا كانوا له جنة من النار.“ فقالت: امرأة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله، أو اثنان. قال: ”أو اثنان.“
حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوالنضر السمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر مسلمانوں میں سے جس کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ صبر کرے اور اللہ سے اجر کی امید رکھے تو یہ بچے اس کے لئے جہنم سے ڈھال یعنی رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔“ ایک عورت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی ، کہنے لگی : یا رسول اللہ ! یا دو (بچے فوت ہو جائیں) ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یا دو (بچے فوت ہو جائیں تو وہ بھی جہنم سے ڈھال بن جاتے ہیں)“ ۔