مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: جس کے تین یا دو بچے فوت ہو جائیں، اس کی فضیلت
حدیث نمبر: 239
15- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار إلا تحلة القسم.“
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مسلمانوں میں سے جس کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے (جہنم کی) آگ نہیں چھوئے گی سوائے قسم پوری کرنے کے ۔“
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 239
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «15- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 235/1 ح 557 ، ك 16 ب 13 ح 38) التمهيد 346/6 ، الاستذكار : 511 ، و أخرجه البخاري (6656) ، ومسلم (2632) من حديث مالك به.»
حدیث نمبر: 240
94- مالك عن محمد بن أبى بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه عن أبى النضر السلمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد فيحتسبهم إلا كانوا له جنة من النار.“ فقالت: امرأة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله، أو اثنان. قال: ”أو اثنان.“
حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوالنضر السمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر مسلمانوں میں سے جس کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ صبر کرے اور اللہ سے اجر کی امید رکھے تو یہ بچے اس کے لئے جہنم سے ڈھال یعنی رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔“ ایک عورت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی ، کہنے لگی : یا رسول اللہ ! یا دو (بچے فوت ہو جائیں) ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یا دو (بچے فوت ہو جائیں تو وہ بھی جہنم سے ڈھال بن جاتے ہیں)“ ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 240
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «94- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 235/1 ح 558 ، ك 16 ب 13 ح 39 وعنده ”عن ابي النضر“ وهوالصواب) التمهيد 86/13 ، 87 ، الاستذكار : 512 ، و أخرجه ابولقاسم الجوهري فى مسند الموطأ (245/262) من حديث مالك به ، وللحديث شواهد عند البخاري (101) و مسلم (2633) وغيرهما والحديث بها صحيح»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔