مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: میت کو کافور ملے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 220
129- وبه عن محمد بن سيرين عن أم عطية الأنصارية أنها قالت: دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حين توفيت ابنته فقال: اغسلنها ثلاثا أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذلك بماء وسدر، واجعلن فى الآخرة كافورا أو شيئا من كافور فإذا فرغتن فآذنني. قالت: فلما فرغنا آذناه فأعطانا حقوه، فقال: أشعرنها إياه تعني إزاره.
حافظ زبیر علی زئی
سیدہ ام عطیہ الانصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا) فوت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم   ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ”اسے تین فعہ یا اگر مناسب سمجھو تو زیادہ دفعہ پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دینا اور آخر میں اس میں کافور یا کافور کا کچھ حصہ ڈالنا ، پھر جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا ۔“ ام عطیہ نے کہا: جب ہم فارغ ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے ازار والی چادر دی اور فرمایا : ”اس کے بدن کو اس (چادر) میں لپیٹ دو۔  “
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 220
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
حدیث تخریج «129- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 222/1 ح 521 ، ك 16 ب 1 ح 2) التمهيد 371/1، الاستذكار : 482 ، و أخرجه البخاري (1253) و مسلم (939/38) من حديث مالك به.»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔