کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: بعض اوقات نفل نماز باجماعت پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 151
36- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى فى المسجد فصلى بصلاته ناس، ثم صلى من القابلة فكثر الناس، ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة أو الرابعة فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم. فلما أصبح قال: ”قد رأيت الذى صنعتم فلم يمنعني من الخروج إليكم إلا أني خشيت أن يفرض عليكم“ وذلك فى رمضان.
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی (سند کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں (رات کی) نماز (تراویح) پڑھی تو (بعض) لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ کے پیچھے) نماز پڑھی، پھر آنے والی رات جب آپ نے نماز پڑھی تو لوگ زیادہ ہو گئے، پھر تیسری یا چوتھی رات کو (بہت) لوگ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس (نماز پڑھانے کے لیے) باہر تشریف نہ لائے ، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم نے (رات کو) جو کیا وہ میں نے دیکھا تھا لیکن میں صرف اس وجہ سے تمہارے پاس نہ آیا کیونکہ مجھے خوف ہو گیا تھا کہ یہ (قیام) تم پر فرض نہ ہو جائے ۔ “ یہ واقعہ رمضان میں ہوا ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 151
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «36- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 113/1 ح 246 ، ك 6 ، ب 1 ح 1) التمهيد 108/8 ، الاستذكار : 217 ، و أخرجه البخاري (1129) ومسلم (761) من حديث مالك به.»
حدیث نمبر: 152
115- وبه: عن أنس أن جدته مليكة دعت رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعته له فأكل منه، ثم قال: ”قوموا فلأصلي لكم.“ قال أنس: فقمت إلى حصير لنا قد اسود من طول ما لبث، فنضحته بماء، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصففت أنا واليتيم وراءه والعجوز من ورائنا، فصلى لنا ركعتين ثم انصرف.
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی سیدہ ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا : ”اٹھو ! میں تمہیں نماز پڑھا دوں“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اٹھ کر اپنی چٹائی کے پاس گیا جو طویل عرصے تک پڑی رہنے کی وجہ سے سیاہ ہو چکی تھی ، میں نے اس پر پانی چھڑکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، ایک یتیم اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی اور بڑھیا ہمارے پیچھے (علیحدہ صف میں) تھیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو (نفل) رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 152
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
حدیث تخریج «115- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 153/1 ح 359 ، ك 9 ب 9 ح 31) التمهيد 263/1، الاستذكار : 329 ، و أخرجه البخاري (860) ومسلم (658) من حديث مالك به.»