مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثموطا امام مالك رواية ابن القاسمابوابباب: چاشت کی نماز مستحب ہے
حدیث نمبر: 145
37- وبه: عن عائشة أم المؤمنين أنها قالت: ما سبح رسول الله صلى الله عليه وسلم سبحة الضحى قط وإني لأستحبها، وإن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليدع العمل وهو يحب أن يعمل به خشية أن يعمل به الناس فيفرض عليهم.
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز (ہمیشہ) کبھی نہیں پڑھی اور میں اس نماز کو مستحب سمجھتی ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عمل کو پسند کرنے کے باوجود (بعض اوقات) اس خوف کی وجہ سے چھوڑ دیتے تھے کہ کہیں اس پر لوگوں کے عمل کرنے کی وجہ سے فرض نہ ہو جائے ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 145
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «37- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 152/1 ، 153 ح 357 ، ك 9 ب 8 ح 29 وعنده : وابي لا سبحها [اور ميں يه نماز پڑهتي هوں]) التمهيد 134/8 ، الاستذكار : 127 ، و أخرجه البخاري (1128) ومسلم (718) من حديث مالك به نحو المعنيٰ.»
حدیث نمبر: 146
191- قال مالك: حدثني موسى بن ميسرة عن أبى مرة مولى عقيل بن أبى طالب أن أم هانيء ابنة أبى طالب أخبرته أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى عام الفتح ثماني ركعات ملتحفا فى ثوب واحد.
حافظ زبیر علی زئی
ابوطالب کی بیٹی (اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بہن) سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں اشتمال کئے ہوئے آٹھ رکعات پڑھیں ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 146
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
حدیث تخریج «191- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 152/1 ح 355 ، ك 9 ب 8 ح 27) التمهيد 184/13 ، الاستذكار :325 ، و أخرجه أحمد (425/6 ح 27936) من حديث مالك به.»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔